لکھنؤ،5جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران لکھنؤ میں جان گنوانے والے محمد وکیل کے اہل خانہ سے اتوار کو ملاقات کی۔اکھلیش اتوار کی دوپہر محمد وکیل کے گھر پر پہنچے اور خاندان سے مل کر تعزیت کا اظہار کیا۔محمد وکیل کے لواحقین سے ملاقات کے بعد اکھلیش نے کہا کہ یوپی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرے میں جان گنوانے والے تمام لوگ پولیس کی گولی سے ہی مرے تھے۔اکھلیش نے کہا کہ ان کی پارٹی تشدد میں مارے گئے تمام لوگوں کے خاندان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دے گی۔اکھلیش نے یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی شہریت ترمیم قانون کی حمایت میں جو مہم چلا رہی ہے، وہ لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔اکھلیش نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ میں مظاہرے کے دوران جان گنوانے والے محمد وکیل کی موت کیسے ہوئی اس کی جانچ ہونی چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمد وکیل کسی مظاہرے کا حصہ نہیں تھا، ایسے میں اس کی موت کس گولی سے ہوئی اس کی جانچ ہونی چاہیے۔اکھلیش یادو نے یہ بھی کہا کہ ملک کا ہر انسان شہریت ترمیم قانون، این آرسی اور این پی آر کی مخالفت میں ہے،جب آدھار کارڈ میں ساری تفصیلات پہلے ہی لی جا چکی ہیں تو این پی آر اور این آرسی جیسی چیزوں کی ضرورت کیا ہے۔اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی بھی یہ جانتی ہے کہ ان کی طرف سے بنایا گیا قانون غیر آئینی ہے۔اکھلیش نے محمد وکیل کے والد شرف الدین کو سماج وادی پارٹی کی جانب سے 1 لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کی بات کہی اور کہا کہ یوگی حکومت کو متاثرہ خاندان کی مدد کرنی چاہئے۔محمد وکیل کے والد شرف الدین نے کہا کہ اکھلیش یادو کو انہوں نے بتایا کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایک مکان اور پانچ لاکھ روپے کی مدد دی گئی ہے۔شرف الدین نے کہا کہ وہ حکومت کی کارروائی سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کی جانب سے انہیں ایک لاکھ روپے کی مالی مدد دی گئی ہے۔شرف الدین نے کہا کہ یوگی حکومت کی جانب سے انہیں 5 لاکھ روپے اور ڈوڈا کا ایک مکان دلایا گیا ہے،وہ حکومت کی کارروائی سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور انہیں کسی سے شکایت نہیں۔